Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
145 - 608
	نوٹ: یہ واقعہ سورۂ اَعراف، آیت نمبر80تا84۔سورۂ ہود،آیت نمبر74تا83۔سورۂ حجر،آیت نمبر58تا77 میں  گزر چکا ہے۔
اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ (۱۶۵)
ترجمۂکنزالایمان: کیا مخلوق میں  مَردوں  سے بدفعلی کرتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیاتم لوگوں  میں  سے مردوں  سے بدفعلی کرتے ہو۔
{اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ: کیاتم مردوں  سے بدفعلی کرتے ہو۔} اس آیت کاایک معنی یہ بھی ہو سکتاہے کہ کیا مخلوق میں  ایسے قبیح اور ذلیل فعل کے لئے تمہیں  رہ گئے ہو،دنیا جہاں  کے اور لوگ بھی تو ہیں ، انہیں  دیکھ کر تمہیں  شرمانا چاہئے۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتاہے کہ کثیر عورتیں  موجودہوتے ہوئے اس قبیح فعل کا مُرتکِب ہونا انتہا درجہ کی خباثت ہے۔مروی ہے کہ اس قوم کو یہ خبیث عمل شیطان نے سکھایا تھا۔(1)
وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ(۱۶۶)قَالُوْا لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ(۱۶۷)
ترجمۂکنزالایمان:  اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جورُوئیں  بنائیں  بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔  بولے اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو ضرور نکال دئیے جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اوراپنی بیویوں  کو چھوڑتے ہو جو تمہارے لیے تمہارے رب نے بنائی ہیں  بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔ انہوں  نے کہا: اے لوط!اگر تم باز نہ آئے تو ضرور نکال دئیے جاؤ گے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ص۸۲۸، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۵، ۶/۳۰۱، ملتقطاً۔