Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
89 - 695
میں اللّٰہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی اور سب سے مقرب ہستیوں یعنی اَنبیاء و رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عبادات ساقط نہیں ہوئیں بلکہ پوری کائنات میں اللّٰہ تعالیٰ کے سب زیادہ مقرب بندے اور سب سے زیادہ اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے یعنی ہمارے آقا، محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بھی عبادات ساقط نہیں ہوئیں تو آج کل کے جاہل اور بناوٹی صوفیا کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم سے عبادات ساقط ہو چکی ہیں۔ایسے بناوٹی صوفی شریعت کے نہیں بلکہ شیطان کے پیروکار ہیں اور اس کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے دین مذہب اور ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ایسے شریروں کے شر سے ہمیں محفوظ فرمائے،اٰمین۔
وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَلَمْ یَجْعَلْنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا ﴿۳۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (مجھے) اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے متکبر، بدنصیب نہ بنایا۔
{وَ بَرًّم ا بِوَالِدَتِیْ:اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے میری والدہ کاخدمت گزار بنایا ہے اور مجھے حق بات کے خلاف تکبر کرنے والا اور بدنصیب نہیں بنایا بلکہ عاجزی اور انکساری کرنے والا بنایا ہے۔
آیت’’وَ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	 اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں :
(1)…حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی والدہ ماجدہ بدکاری کی تہمت سے بری ہیں کیونکہ اگر وہ کوئی بدکار عورت ہوتیں تو ایک معصوم رسول کو ان کے ساتھ بھلائی کرنے اور ان کی تعظیم کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔
(2)…حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس سے ماں کا مرتبہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی اُن سے حسن ِسلوک کا فرمایا جاتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فطرت کے اعتبار سے ہی ماں سے حسن ِ