Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
466 - 695
ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔پھر دوسری بار اعلان کرے گا کہ جس کا اجر اللّٰہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔پوچھا جائے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اللّٰہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے۔ مُنادی کہے گا :ان کا جو لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ہیں۔پھر تیسری بار مُنادی اعلان کرے گا:جس کا اجر اللّٰہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔(1)
بدلہ نہ لینے سے متعلق تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت:
	سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں کی خطاؤں سے در گزر فرماتے اور ان کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لینے کی بجائے معاف کر دیاکرتے تھے،چنانچہ حضرت ابو عبداللّٰہ جدلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اخلاقِ مبارکہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا’’حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ طبعی طور پر فحش باتیں کرنے والے نہ تھے اور نہ ہی تَکَلُّف کے ساتھ فحش کہنے والے تھے اور آپ بازاروں میں شور کرنے والے بھی نہ تھے۔آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیا کرتے بلکہ معاف کر دیتے اور در گزر فرمایاکرتے تھے۔(2)
	حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں :رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی معاملے میں اپنی ذات کاکبھی انتقام نہیں لیا خواہ آپ کو کیسی ہی تکلیف دی گئی ہو،ہاں جب اللّٰہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللّٰہ تعالیٰ کے لئے (ان کا) انتقام لیا کرتے تھے۔(3)
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ اَنَّ اللہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۶۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ اس لیے کہ اللّٰہ تعالیٰ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۵۴۲، الحدیث: ۱۹۹۸۔
2…ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی خلق النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۳/۴۰۹، الحدیث: ۲۰۲۳۔
3…بخاری، کتاب المحاربین من اہل الکفر والردۃ، باب کم التعزیر والادب، ۴/۳۵۲، الحدیث: ۶۸۵۳۔