Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
465 - 695
ظلم کے مطابق سزا دیناعدل و انصاف اور معاف کر دینا بہتر ہے:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ جو شخص جتنا ظلم کرے اسے اتنی ہی سزا دینا عدل و انصاف ہے، لیکن ممکنہ صورت میں بدلہ لینے کی بجائے ظالم کو معاف کر دینا بہر حال بہتر اور افضل ہے کیونکہ معاف کرنے کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے، چنانچہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فر ماتا ہے: ’’فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیۡکُمْ فَاعْتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیۡکُمْ۪ وَاتَّقُوا اللہَ وَ اعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیۡنَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: توجو تم پر زیادتی کرے اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر زیادتی کی ہواور اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللّٰہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔
	 اور ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾ وَ لَمَنِ انۡتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾ اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظْلِمُوۡنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوۡنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۲﴾ وَلَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوۡرِ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنواراتو اس کا اجر اللّٰہ (کے ذمہ کرم) پر ہے، بیشک وہ ظالموں کوپسند نہیں کرتا۔اور بے شک جس نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لیا ان کی پکڑ کی کوئی راہ نہیں۔ گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں،ان کے لیےدردناک عذاب ہے۔ اور بیشک جس نے صبر کیااورمعاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔
	 حضرت انس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب لوگ حساب کے لئے ٹھہرے ہوں گے تو اس وقت ایک مُنادی یہ اعلان کرے گا:جس کا اجر اللّٰہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…بقرہ:۱۹۴۔
2…شوری:۴۰۔۴۳۔