مرنے والے کے لئے ایسی کوئی فضیلت وارد نہیں ہوئی۔
(5)…راہِ خدا میں شہید ہونے والے کو غسل نہیں دیا جاتا جبکہ راہِ خدا میں طبعی موت مرنے والے کو غسل دیا جاتا ہے۔(1)
ذٰلِکَ ۚ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوۡقِبَ بِہٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیۡہِ لَیَنۡصُرَنَّہُ اللہُ ؕ اِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّغَفُوۡرٌ ﴿۶۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: بات یہ ہے اور جو بدلہ لے جیسی تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی جائے تو بیشک اللّٰہ اس کی مدد فرمائے گا بیشک اللّٰہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بات یونہی ہے اور جو کسی کو ویسی ہی سزا دے جیسی اسے تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر (بھی)اس پر زیادتی کی جائے تو بیشک اللّٰہ اس کی مدد فرمائے گا،بیشک اللّٰہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔
{وَمَنْ عَاقَبَ: اور جو سزا دے۔} اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کااجر و ثواب بیان کیاگیا جنہوں نے ہجرت کی اور اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو گئے یا انہیں طبعی طور پر موت آ گئی اور اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو مسلمانوں پر زیادتی کرے گا اس کے خلاف اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد فرماتا رہے گا،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان کسی ظالم کو ویسی ہی سزا دے جیسی اسے تکلیف پہنچائی گئی تھی اور بدلہ لینے میں حد سے نہ بڑھے، پھر بھی اس مسلمان پر زیادتی کی جائے تو بیشک اللّٰہ تعالیٰ ظالم کے خلاف اس کی مدد فرمائے گا،، بیشک اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو معاف کرنے والا اور ان کی بخشش فرمانے والا ہے۔ شانِ نزول:یہ آیت ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جو محرم کے مہینے کی آخری تاریخوں میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں نے مبارک مہینے کی حرمت کے خیال سے لڑنا نہ چاہا، مگر مشرک نہ مانے اور انہوں نے لڑائی شروع کر دی، مسلمان ان کے مقابلے میں ثابت قدم رہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے مشرکوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائی۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۵۹، ۶/۵۲-۵۳، ملخصاً۔
2…البحر المحیط ، الحج ، تحت الآیۃ : ۶۰، ۶/۳۵۴، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۶۰، ۶/۵۳، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۶۰، ۳/۲۱۵، ملتقطاً۔