Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
463 - 695
’’راہِ خدا میں شہید ہونے والا اور اس راہ میں طبعی موت مرنے والا رزق ملنے کا وعدہ کئے جانے میں برابر ہیں لیکن وعدے میں برابری ا س بات پر دلالت نہیں کرتی کہ جو رزق انہیں عطا کیا جائے گااس کی مقدار بھی برابر ہو گی،دیگر دلائل اور ظاہر ِشریعت سے یہ ثابت ہے کہ شہید (طبعی موت مرنے والے سے) افضل ہے۔(1)
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:ا س آیت میں شہید ہونے والے اور طبعی موت مرنے والے، دونوں کے لئے ایک جیسا وعدہ کیا گیا ہے کیونکہ دونوں اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے اور دین کی مدد کرنے نکلے ہیں اور بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’ راہِ خدا میں شہید ہونے والے اور طبعی موت مر جانے والے دونوں حضرات کو اچھی روزی ملے گی لیکن ا س آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ راہِ خدا میں شہید ہونے والے اور طبعی موت مرنے والے کا اجر ہر اعتبار سے برابر ہے بلکہ ان دونوں کے حال میں فرق ہونے کی بنا پر انہیں ملنے والی اچھی روزی میں بھی فرق ہو گا کیونکہ راہِ خدا میں شہید ہونے والے کو طبعی موت مرنے والے پر فضیلت حاصل ہے کہ اسے اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں زخم پہنچے اوراس کا خون بہا (جبکہ طبعی موت مرنے والے کو یہ تکلیفیں برداشت نہیں کرنی پڑیں۔) نیزشہید کے طبعی موت مرنے والے سے افضل ہونے پر کثیر دلائل موجود ہیں جن میں سے پانچ درج ذیل ہیں۔
(1)…نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عرض کی گئی:کون سا جہاد (یعنی مجاہد) افضل ہے؟ارشاد فرمایا: ’’جس کا خون بہایا جائے اور اس کا گھوڑا زخمی کر دیا جائے۔(2)
(2)…راہِ خدا میں شہید ہونے والاقیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ ا س کے خون سے مشک کی خوشبو آ رہی ہو گی۔(3) جبکہ راہِ خدا میں طبعی موت مرنے والے کو یہ فضیلت حاصل نہ ہو گی۔
(3)…شہید ہونے والا شہادت کی فضیلت دیکھ لینے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹادیا جائے تاکہ اسے دوبارہ اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کیا جائے۔(4)  لیکن طبعی موت مرنے والاایسی تمنا نہ کرے گا۔
(4)…راہِ خدا میں شہید ہونے سے (مخصوص گناہوں کے علاوہ) تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔(5) اور طبعی موت
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…البحر المحیط، الحج، تحت الآیۃ: ۵۸، ۶/۳۵۴، ملخصًا۔
2…ابن ماجہ، کتاب الجہاد، باب القتال فی سبیل اللّٰہ، ۳/۳۵۸، الحدیث: ۲۷۹۴۔
3…بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب من یجرح فی سبیل اللّٰہ عزّ وجلّ، ۲/۲۵۴، الحدیث: ۲۸۰۳۔
4…بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب الحور العین وصفتہنّ۔۔۔ الخ، ۲/۲۵۲، الحدیث: ۲۷۹۵۔
5…ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی ثواب الشہید، ۳/۲۴۰، الحدیث: ۱۶۴۸۔