میں فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے اور اس کی رضا کے لئے عزیز و اَقارب کو چھوڑ کر وطن سے نکلے اور مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی، پھر جنگ میں یا تو شہید کردئیے گئے یا انہیں طبعی طور پر موت آ گئی تواللّٰہ تعالیٰ ضرور انہیں جنت کی اچھی روزی دے گا جو کبھی ختم نہ ہو گی اور بیشک اللّٰہ تعالیٰ سب سے اچھا رزق دینے والا ہے کیونکہ وہ بے حساب رزق دیتا ہے اور جو رزق وہ دیتا ہے اس پر اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں۔(1)
لَیُدْخِلَنَّہُمۡ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَہٗ ؕ وَ اِنَّ اللہَ لَعَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: ضرور انہیں ایسی جگہ لے جائے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللّٰہ علم اور حلم والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ ضرور انہیں ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللّٰہ علم والا، حلم والا ہے۔
{لَیُدْخِلَنَّہُمۡ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَہٗ:وہ ضرور انہیں ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ پسند کریں گے۔} اس سے پہلی آیت میں جن ہستیوں کے لئے جنت کی روزی کا بیان ہوا یہاں ان کی رہائش کے بارے میں بیان کیا جا رہا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ ضرور انہیں ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ پسند کریں گے، وہاں ان کی ہر مراد پوری ہو گی اورانہیں کوئی ناگوار بات پیش نہ آئے گی اور بیشک اللّٰہ تعالیٰ ہر ایک کے احوال کو جاننے والا اور قدرت کے باوجود دشمنوں کو جلد سزا نہ دے کر حلم فرمانے والا ہے۔(2)
راہِ خدا میں شہید ہونے والا ا س راہ میں طبعی موت مرنے والے سے افضل ہے:
ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کی نیت سے مجاہدین کے ساتھ نکلے،پھر اسے طبعی طور پر موت آ جائے تو اسے اور شہید دونوں کو جنت میں اچھا رزق دیاجائے گا، البتہ یہاں یہ بات یاد رہے کہ شہید کا مرتبہ طبعی موت مرنے والے سے بڑا ہے۔چنانچہ علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ:۵۸، ص۷۴۵، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۵۸، ۳/۳۱۵، جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۵۸، ص۲۸۴، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۵۸، ۶/۵۲، ملتقطاً۔
2…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳/۳۱۵، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۵۹، ۶/۵۲، ملتقطاً۔