Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
461 - 695
{اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِّلہِ: اس دن بادشاہی اللّٰہ ہی کیلئے ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن بادشاہی اللّٰہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جس کا اصلًا کوئی شریک نہیں اور وہ بادشاہی اس طرح ہے کہ اس دن کوئی شخص سلطنت کا دعویٰ بھی نہ کرے گا اور اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کسی بادشاہ کا قانون نہ ہوگا ورنہ حقیقی بادشاہت تو آج بھی اس کی ہی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس دن مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فیصلہ کردے گا اوروہ فیصلہ یہ ہے کہ ایمان لانے والے اوراچھے کام کرنے والے مسلمان اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے نعمتوں کے باغات میں ہوں گے اور جنہوں نے کفر کیا اور اللّٰہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا ان کے لیے ان کے کفر کی وجہ سے رسواکردینے والاعذاب ہے۔(1)
وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ثُمَّ قُتِلُوۡۤا اَوْ مَاتُوۡا لَیَرْزُقَنَّہُمُ اللہُ رِزْقًا حَسَنًا ؕ وَ اِنَّ اللہَ لَہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۵۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جنہوں نے اللّٰہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے پھر مارے گئے یا مرگئے تواللّٰہ ضرور انہیں اچھی روزی دے گا اور بیشک اللّٰہ کی روزی سب سے بہتر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جنہوں نے اللّٰہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے پھر قتل کردئیے گئے یا خود مرگئے تواللّٰہ ضرور انہیں اچھی روزی دے گا اور بیشک اللّٰہ سب سے اچھا رزق دینے والا ہے۔
{وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ: اور وہ جنہوں نے اللّٰہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے۔} شانِ نزول:بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہمارے جو اَصحاب شہید ہو گئے ہم جانتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بڑے درجے ہیں اور ہم جہادوں میں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ رہیں گے ،لیکن اگر ہم آپ کے ساتھ رہے اور ہمیں شہادت کے بغیر موت آئی تو آخرت میں ہمارے لئے کیا ہے؟ اس پر یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی اور اس آیت 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۵۶-۵۷، ۶/۵۱، جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۵۶-۵۷، ص۲۸۴، ملتقطاً۔