دینِ اسلام کے بارے میں ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کے ان پرقیامت آجائے یا انہیں موت آجائے کیونکہ موت بھی قیامت ِ صغریٰ ہے یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس میں ان کیلئے کوئی خیر نہ ہو۔اس دن سے بدر کا دن مراد ہے جس میں کافروں کے لئے کچھ کشادگی اور راحت نہ تھی اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے قیامت کا دن مراد ہے اور ’’اَلسَّاعَۃُ‘‘ سے قیامت آنے سے پہلے کی چیزیں مراد ہیں۔(1)
آیت ’’وَلَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے
(1)…اَزلی کافر کے لئے کوئی دلیل مفید نہیں ،وہ ہمیشہ شک میں گرفتار رہے گا۔
(2)… موت کے وقت، یا قیامت میں یا اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب دیکھ کر کفار ایمان قبول کر لیتے ہیں مگر وہ ایمان اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک معتبر نہیں۔
اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِّلہِ ؕیَحْکُمُ بَیۡنَہُمْ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۵۶﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۵۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: بادشاہی اس دن اللّٰہ ہی کی ہے وہ ان میں فیصلہ کردے گا تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ چین کے باغوں میں ہیں۔اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن بادشاہی اللّٰہ ہی کے لئے ہے ۔وہ ان میں فیصلہ کردے گاتو ایمان والے اور اچھے کام کرنے والے نعمتوں کے باغات میں ہوں گے۔اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لیے رسوا کر دینے والا عذاب ہے۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۵۵، ص۷۴۵۔