Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
459 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تاکہ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جان لیں کہ یہ (قرآن)تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں تو اس کیلئے ان کے دل جھک جائیں اور بیشک اللّٰہ ایمان والوں کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔
{وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ: اور تاکہ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جان لیں۔} ارشاد فرمایا : شیطان کو قدرت دینا اس لئے ہے تاکہ جنہیں اللّٰہ تعالیٰ کے دین کا اور اس کی آیات کا علم دیا گیا ہے وہ جان لیں کہ اس قرآن شریف کاتمہارے رب کے پاس سے نازل ہونا حق ہے اور شیطان اس میں کسی طرح کا کوئی تَصَرُّف نہیں کر سکتا، تو وہ اس پر ایمان لا نے میں ثابت قدم رہیں اور اس کیلئے ان کے دل جھک جائیں اور بیشک اللّٰہ تعالیٰ ایمان والوں کو دینی اُمور میںسیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔(1) مراد یہ ہے کہ شیطان کی یہ حرکت مومنوں کے ایمان کی قوت کا ذریعہ بن جاتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ شیطان نے پچھلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی برتاوا کیا تھا اور رب عَزَّوَجَلَّ نے اس کے داؤ کو بیکار کردیا تھا۔ یہ حقانیتِ قرآن کی دلیل ہے۔
وَلَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْ یَاۡتِیَہُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیۡمٍ ﴿۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس میں ان کیلئے کوئی خیر نہ ہو۔
{وَلَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ: اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے۔} یعنی کافرقرآن سے یا
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۵۴، ۶/۵۰۔