خدمت مقصود نہ ہو، کافروں کا کام ہے جبکہ اظہار ِحق کے لئے مناظرہ کرنا انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلْقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمْنِیَّتِہٖۚ فَیَنۡسَخُ اللہُ مَا یُلْقِی الشَّیۡطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللہُ اٰیٰتِہٖؕ وَ اللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿ۙ۵۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے سب پر یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللّٰہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللّٰہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے اور اللّٰہ علم و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول اور نبی بھیجے (ہر ایک کو کبھی نہ کبھی یہ واقعہ پیش آیا کہ) جب اس نے (اللّٰہ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو اللّٰہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹا دیتا ہے پھر اللّٰہ اپنی آیتوں کوپکا کردیتا ہے اور اللّٰہ علم والا، حکمت والا ہے۔
{اِذَا تَمَنّٰۤی: جب اس نے پڑھا۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب ’’سورئہ نجم‘‘ نازل ہوئی تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسجد ِحرام میں آیتوں کے درمیان وقفہ فرماتے ہوئے بہت آہستہ آہستہ اس کی تلاوت فرمائی تاکہ سننے والے غور بھی کرسکیں اور یاد کرنے والوں کو یاد کرنے میں مدد بھی ملے ،جب آپ نے آیت ’’وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی‘‘ پڑھ کر پہلے کی طرح وقفہ فرمایا تو شیطان نے مشرکین کے کان میں اس سے ملا کر دو کلمے ایسے کہہ دیئے جن سے بتوں کی تعریف نکلتی تھی۔حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ حال عرض کیا تواس سے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو رنج ہوا ،اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔(1)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۵۲، ۶/۴۹۔