کوششوں میں مصروف ہیں اور نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کر نے کے اہم ترین فریضے کو انجام دے رہے ہیں، انہیں چاہئے کہ ان کاموں کے دوران دل مضبوط رکھیں اور لوگوں کی طرف سے ہونے والی طعن و تشنیع اور طنز ومذاق کو خاطر میں نہ لائیں اور ا س وجہ سے یہ کام چھوڑ نہ دیں بلکہ اپنے پیش ِنظرصرف اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کو رکھتے ہوئے ان کاموں کو جاری رکھیں ،اور ایسے لوگوں کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہدایت کی دعا کرتے رہیں ،اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا تو انہیں ہدایت مل جائے گی ۔
فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۵۰﴾ وَ الَّذِیۡنَ سَعَوْا فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ ﴿۵۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔ اور وہ جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں میں ہار جیت کے ارادہ سے وہ جہنمی ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ اور وہ لوگ جوہماری آیتوں میںہارجیت کے ارادے سے کوشش کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔
{فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا: تو جو لوگ ایمان لائے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لیے گناہوں سے بخشش اور جنت میں عزت کی روزی ہے جو کبھی ختم نہ ہو گی اور وہ لوگ جو اللّٰہ تعالیٰ کی آیتوں کا رد کرنے اور انہیں جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کبھی ان آیات کو جادو کہتے ہیں ، کبھی شعر اور کبھی پچھلوں کے قصے ،اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام کے ساتھ ان کا یہ مکر چل جائے گا ، وہ جہنمی ہیں۔(1)
اس سے اشارۃًمعلوم ہوا کہ جو ضدی عالم جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے اور سند کے طور پر قرآن مجید کی آیات پیش کرے ، وہ جہنمی ہے۔ اسی طرح مناظرہ محض اپنی جیت کے لئے کرنا جس میں حق کو ثابت کرنا اور دین کی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱، ۸/۲۳۵، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱، ص۷۴۳، ملتقطاً۔