Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
455 - 695
ظلم اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کاسبب ہے:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ اللّٰہ تعالیٰ ظالم شخص کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور فوری طور پر اس کی گرفت نہیں فرماتا حتّٰی کہ وہ یہ گمان کرنے لگ جاتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کی گرفت نہیں فرمائے گا،پھر اللّٰہ تعالیٰ اس کی وہاں سے پکڑ فرماتا ہے جہاں سے اسے وہم وگمان تک نہیں ہوتا اور اس وقت اپنے آپ کو ملامت کرنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں رہتا تو ظالم کی نجات اسی میں ہے کہ وہ اپنے اوپر اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے سے پہلے پہلے ظلم سے باز آجائے اور اس کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے جن پر ظلم کیا اور ان کے حقوق کو ضائع کیا ان سے معافی مانگ لے اور ان کے حقوق انہیں ادا کر دے۔ اللّٰہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَکُمْ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۴۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تو یہی تمہارے لیے صریح ڈر سُنانے والا ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرمادو! اے لوگو!میں توصرف تمہارے لیے کھلم کھلاڈر سنانے والا ہوں۔
{قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ: تم فرمادو! اے لوگو!۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں کو اللّٰہ تعالیٰ کی گرفت اور ا س کے عذاب سے مسلسل ڈراتے رہیں اور ان کی طرف سے مذاق اڑانے کے طور پر جلدی عذاب نازل کرنے کے مطالبات کی وجہ سے انہیں ڈرانا مَوقوف نہ فرمائیں اور ان سے فرما دیں کہ مجھے واضح طور پر اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر سنانے کے لئے بھیجا گیا ہے اور تمہارا مذاق اڑانا مجھے ا س سے نہیں روک سکتا۔(1)
مبلغین کے لئے نصیحت:
	اس میں ان تمام مسلمانوں کے لئے بھی بڑی نصیحت ہے جواسلام کے احکامات لوگوں تک پہنچانے کی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۴۹، ۸/۲۳۴۔