وعدہ بدر میں پورا ہوا اور مذاق اڑانے والے کفار ذلت کی موت مارے گئے۔(1)
{وَ اِنَّ یَوْمًا عِنۡدَ رَبِّکَ: بیشک تمہارے رب کے ہاں ایک دن ایسا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں عذاب کا ایک دن ایسا ہے جو تم لوگوں کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے، تو یہ کفار کیا سمجھ کر جلدی عذاب نازل کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔(2)
یاد رہے کہ اس آیت اور سورہِ سجدہ کی آیت نمبر 5میں یہ بیان ہو اکہ قیامت کا دن لوگوں کی گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہو گا اور سورہِ معارج کی آیت نمبر4میں یہ بیان ہو اہے کہ قیامت کے دن کی مقدارپچاس ہزار سال ہے۔ان میں مطابقت یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار کو جن سختیوں اور ہولناکیوں کا سامنا ہو گا ان کی وجہ سے بعض کفار کو وہ دن ایک ہزار سال کے برابر لگے گا اور بعض کفار کو پچاس ہزار سال کے برابر لگے گا۔
وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرْیَۃٍ اَمْلَیۡتُ لَہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذْتُہَا ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیۡرُ ﴿٪۴۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کتنی بستیاں کہ ہم نے ان کو ڈھیل دی اس حال پر کہ وہ ستم گار تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا اور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیںڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑلیااور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔
{وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرْیَۃٍ اَمْلَیۡتُ لَہَا: اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں میں نے ڈھیل دی۔} ارشاد فرمایا کہ کثیر بستیاں ایسی ہیں جن میں رہنے والے لوگوں کو ظالم ہونے کے باوجود میں نے ڈھیل دی اور ان سے عذاب کو مُؤخَّر کیا ،پھر میں نے مہلت ختم ہونے کے بعد انہیں پکڑلیااور دنیا میں ان پر عذاب نازل کیا،اورآخرت میں سب کو میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے تو میں ان کے اَعمال کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کروں گا۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۴۷، ۶/۴۶۔
2…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۷۴۳۔
3…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۴۸، ۶/۴۷۔