باوجود دین کا راستہ پانے اور حق و ہدایت کی راہ چلنے سے محروم رہتا ہے۔حضرت عبداللّٰہ بن جراد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:اندھاوہ نہیں جوظاہری آنکھوں سے محروم ہے بلکہ اندھاوہ ہے جوبصیرت سے محروم ہے۔(1)
اورحضرت سہل رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :جس شخص کا دل بصیرت سے روشن ہو وہ نفسانی خواہشات اور شہوتوں پر غالب رہتا ہے اور جب وہ دل کی بصیرت سے اندھا ہو جائے تو ا س پر شہوت غالب آ جاتی ہے اور غفلت طاری ہو جاتی ہے ، اس وقت اس کا بدن گناہوں میں گم ہو جاتا ہے اور وہ کسی حال میں بھی حق کے سامنے گردن نہیں جھکاتا۔(2) اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دل کی بصیرت عطا فرمائے اور دل کی بصیرت سے اندھا ہونے سے محفوظ فرمائے ،اٰمین۔
وَ یَسْتَعْجِلُوۡنَکَ بِالْعَذَابِ وَلَنۡ یُّخْلِفَ اللہُ وَعْدَہٗ ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں اور اللّٰہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا اور بیشک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں اور اللّٰہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے رب کے ہاں ایک دن ایسا ہے جو تم لوگوں کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے۔
{وَ یَسْتَعْجِلُوۡنَکَ بِالْعَذَابِ: اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفارِ مکہ جیسے نضر بن حارث وغیرہ مذاق اڑانے کے طور پر آپ سے جلدی عذاب نازل کرنے کا تقاضا کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گااور وعدے کے مطابق ضرور عذاب نازل فرمائے گا چنانچہ یہ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…نوادرالاصول، الاصل التاسع والثلاثون، ۱/۱۵۷، الحدیث: ۲۴۰۔
2…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۴۶، ۶/۴۵۔