عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے لئے فائدہ مند دو چیزیں:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان مقامات کو دیکھنا جہاں اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہے اوران قوموں کے بارے میں سننا جن پر اللّٰہ تعالیٰ نے عذاب نازل فرمایا ہے،عبرت اورنصیحت حاصل کرنے کے لئے بہت فائدہ مند ہے اور اس دیکھنے اور سننے سے فائدہ اسی صورت میں اٹھایا جا سکتا ہے جب دل سے غورو فکر کرتے ہوئے ان چیزوں کو دیکھا اور ان کے بارے میں سنا جائے اور جو شخص عذاب والی جگہوں کا مشاہدہ توکرے اور عذاب یافتہ قوموں کے بارے میں سنے، پھر ان کے حالات وانجام میں غورو فکر نہ کرے تو وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کر پاتا،لہٰذا جب بھی کسی ایسی جگہ سے گزر ہو جہاں اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تھا یا عذاب میں مبتلا ہونے والی قوم کے واقعات سنیں تو اس وقت دل سے ان پر غور و فکر ضرور کریں تاکہ دل میں اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف اور ڈر پیدا ہو اور اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے اور اس کی اطاعت گزاری کرنے میں مدد ملے۔اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو یا کان لگائے اوروہ حاضر ہو۔
اورایک بزرگ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ نصیحت کے ساتھ اپنے دل کوزندہ رکھو ،غوروفکرکے ساتھ دل کومنورکرو، زُہد اوردنیاسے بے رغبتی کے ساتھ نفس کومارو،یقین کے ساتھ اس کو مضبوط کرو،موت کی یادسے دل کوذلیل کرو،فنا ہونے کے یقین سے اس کوصبر کرنے والابناؤ، زمانے کی مصیبتیں دکھاکراس کوخوفزدہ کرو،دن اوررات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے سے اس کوبیداررکھو،گزشتہ لوگوں کے واقعات سے اسے عبرت دلاؤ،پہلے لوگوں کے قصے سناکراسے ڈراؤ ،ان کے شہروں اوران کے حالات میں اس کوغوروفکرکرنے کاعادی بناؤاوردیکھوکہ بدکاروں اورگناہ گاروں کے ساتھ کیسامعاملہ ہوا اوروہ کس طرح الٹ پلٹ کردئیے گے۔(2)
دل کے اندھے پن کا نقصان:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ جس کا دل بصیرت کی نظر سے اندھا ہو وہ تمام ظاہری اَسباب ہونے کے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ق:۳۷۔
2…ابن کثیر، الحج، تحت الآیۃ: ۴۶، ۵/۳۸۴-۳۸۵۔