خالی اور ویران پڑے ہیں کیونکہ ان میں رہنے والے مر چکے ہیں۔(1)
اَفَلَمْ یَسِیۡرُوۡا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوۡنَ لَہُمْ قُلُوۡبٌ یَّعْقِلُوۡنَ بِہَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوۡنَ بِہَا ۚ فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں یا کان ہوں جن سے سُنیں تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا یہ لوگ زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے یہ سمجھیں یا کان ہوں جن سے سنیں پس بیشک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں۔
{اَفَلَمْ یَسِیۡرُوۡا فِی الْاَرْضِ: تو کیا یہ لوگ زمین میں نہ چلے۔} اس آیت میں کفارِ مکہ کو زمین میں سفر کرنے پر ابھارا گیا تاکہ وہ کفر کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے مقامات دیکھیں اور ان کے آثار کا مشاہدہ کر کے عبرت حاصل کریں، چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا کفارِ مکہ نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ وہ سابقہ قوموں کے حالات کا مشاہدہ کریں اور ان کے پاس ایسے دل ہوں جن سے یہ سمجھ سکیں کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے اُن قوموں کا کیا انجام ہوا اور اس سے عبرت حاصل کریں یا ان کے پاس ایسے کان ہوں جن سے پچھلی امتوں کے حالات ، ان کا ہلاک ہونا اور ان کی بستیوں کی ویرانی کے بارے میں سنیں تاکہ اس سے عبرت حاصل ہو۔ پس بیشک کفار کی ظاہری حِس باطل نہیں ہوئی اور وہ ان آنکھوں سے دیکھنے کی چیزیں دیکھتے ہیں بلکہ وہ ان دلوں کے اندھے ہیں جو سینو ں میں ہیں اور دلوں ہی کا اندھا ہونا غضب ہے اور اسی وجہ سے آدمی دین کی راہ پانے سے محروم رہتا ہے۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۷۴۲، جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۲۸۳، ملتقطاً۔
2…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۷۴۲-۷۴۳، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۳۱۱-۳۱۲، تفسیر کبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۴۶، ۸/۲۳۳-۲۳۴، ملتقطاً۔