کی ذمہ داری کو سنبھالا، ان کی خلافت کو خلافت ِراشدہ کہا جاتا ہے۔ ان کے دورِ خلافت میں اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زمین پر غلبہ و اِقتدار عطا فرمایا اور مسلمانوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد و نصرت سے روم اور ایران جیسی اپنے وقت کی سپر پاورز کو قدموں تلے روند کر رکھ دیا،عراق اور مصر پر قبضہ کر لیا اور افریقی ممالک میں بھی دین ِاسلام کے جھنڈے گاڑ دئیے۔اتنا عظیم اِقتدار اور اتنی بڑی سلطنت رکھنے کے باوجود ان صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی سیرت پہلے کی طرح پاکیزہ رہی بلکہ اس کی پاکیزگی اور طہارت میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خلافت ملنے کے بعد بھی انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے فرائض کو پابندی سے ادا کیا، نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے باقاعدہ نظام بنائے ، لوگوں کو نیک کام کرنے کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے اہم ترین فریضے کو بڑی خوبی سے ادا کیا،الغرض ان کی پاکیزہ سیرت کاحال یہ ہے کہ ان کے تقویٰ و پرہیز گاری،دنیا سے بے رغبتی،اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے گریہ و زاری،عاجزی واِنکساری،حِلم و بُردباری، شفقت ورحم دلی،جرأت و بہادری،امت کی خیر خواہی،غیرت ِ ایمانی اور عدل و انصاف کے اتنے واقعات ہیں جنہیں جمع کیا جائے تو ہزاروں صفحات بھر جائیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان عظیم ہستیوں کے صدقے آج کے مسلم حکمرانوں کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے اور انہیں اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق حکومت کانظام چلانے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی دین ِاسلام پر اِستقامت:
اس آیت میں دی گئی خبر سے معلوم ہو اکہ جب ہجرت کرنے والے صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو زمین میں اقتدار ملے گا تو ا س کے بعد بھی وہ اسی دین پر قائم ہوں گے جسے انہوں نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لا کر اختیار کیا تھا،لہٰذا قرآن مجید کی ا س سچی خبر کے مطابق حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہری کے بعد جب حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مسلمانوں کے خلیفہ بنے تو اس وقت صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ مَعَاذَاللّٰہ مُرتَد نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ دین ِاسلام پر ہی مضبوطی سے قائم تھے اور انہوں نے اسلام کے اصول و قوانین پر ہی عمل کیا اور ہر جگہ انہی اصولوں کو نافذ کیا،اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیعت کر کے مَعَاذَاللّٰہ سب صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ مُرتَد ہو گئے تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم عطا فرمائے ۔