برائی سے روکیں اور اللّٰہ ہی کے لئے سب کاموں کا انجام۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نما زقائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور اللّٰہ ہی کے قبضے میں سب کاموں کا انجام ہے۔
{اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ: وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں۔} ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا ، اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرمائیں تو ان کی سیرت ایسی پاکیزہ ہو گی کہ وہ میری تعظیم کے لئے نما زقائم رکھیں گے ، زکوٰۃ دیں گے ، بھلائی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔(1)
امام عبداللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ آئندہ مہاجرین کو زمین میں تَصَرُّف عطا فرمانے کے بعد (بھی)ان کی سیرتیں بڑی پاکیزہ رہیں گی اور وہ دین کے کاموں میں اخلاص کے ساتھ مشغول رہیں گے۔ اس میں خلفاء ِ راشدین کے عدل و انصاف اور ان کے تقویٰ و پرہیزگاری کی دلیل ہے جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے اِقتدار اور حکومت عطا فرمائی اور عادلانہ سیرت عطا کی۔(2)
خلفائے راشدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی پاکیزہ سیرت کی جھلک:
حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں چار صحابۂ کرام ،حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق،حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں دیگر صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے مقابلے میں خاص قرب اور مقام حاصل تھا اور یہ چار صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سیرت وعمل اور پاکیزہ کردار کے لحاظ سے بقیہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ پر فوقیت رکھتے تھے اور ان کی عبادت و ریاضت،تقویٰ و پرہیزگاری اورعدل و انصاف بے مثل حیثیت رکھتے تھے،پھر جب سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ظاہری وصال ہوا تو بِالتَّرتیب ان چار صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے مسلمانوں کی امامت و خلافت
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۴۱، ۶/۴۱۔
2…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۷۴۲۔