Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
446 - 695
عبادت گاہوں، عیسائیوں کے گرجوں اور حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے میں مسلمانوں کی ان مسجدوں کو گرا دیا جاتا جن میں اللّٰہ تعالیٰ کاکثرت سے ذکر کیا جاتا ہے۔(1)
 جہاد کی برکت:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ اگر گزشتہ زمانہ میں جہاد نہ ہوئے ہوتے تو نہ یہودیوں کے عبادت خانے محفوظ رہتے اور نہ عیسائیوں کے گرجے۔ ہرزمانے میں جہاد کی ایک برکت یہ ہوئی کہ لوگوں کی عبادت گاہیں محفوظ ہوگئیں، لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ اب ہمارے زمانے میں گرجوں وغیرہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا اس اعتبار سے کوئی احترام نہیں کہ وہ کوئی مقدس جگہیں ہیں ، صرف یہ ہے کہ اسلامی ملک میں غیرمسلموں کو اپنی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت ہے اور ہم انہیں اس معاملے میں چھیڑیں گے نہیں اور نہ ہی مسلمانوں کو حق ہوگا کہ بلاوجہ دوسروں کے عبادت خانے گرائیں۔ہمیں ہماری شریعت کا حکم یہ ہے کہ ہم کافروں کو اور ان کے دین کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور اسلام کا پیغام ان کی عبادت گاہیں گرا کر نہیں بلکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعے دیں۔ 
{وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ:اور بیشک اللّٰہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا۔} ارشاد فرمایاکہ جو اللّٰہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرے گا اللّٰہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد فرمائے گا،چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور مہاجرین و اَنصار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو عرب کے سرکش کافر سرداروں پر غلبہ عطا فرمایا ،پھر ایران کے کسریٰ اور روم کے قیصر پر غلبہ عنایت کیا اور ان کی سر زمین اور شہروں کا مسلمانوں کو وارث بنا دیا۔(2)
اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالْمَعْرُوۡفِ وَ نَہَوْا عَنِ الْمُنۡکَرِؕ وَ لِلہِ عٰقِبَۃُ الْاُمُوۡرِ ﴿۴۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں تو نما زبرپا رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۷۴۱، خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳/۳۱۰-۳۱۱، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۴۰، ۶/۴۰۔