Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
445 - 695
وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیۡہَا اسْمُ اللہِ کَثِیۡرًا ؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللّٰہ ہے اور اللّٰہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقاہیں اور گرجا اور کلیسا اور مسجدیں جن میں اللّٰہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے اور بیشک اللّٰہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللّٰہ قدرت والا غالب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:وہ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا گیا صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا : ہمارا رب اللّٰہ ہے اور اگر اللّٰہ آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور عبادت گاہوں اور گرجوں اور کلیساؤں اور مسجدوں کو گرادیا جاتاجن میں اللّٰہ کاکثرت سے ذکر کیا جاتا ہے اور بیشک اللّٰہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا، بیشک اللّٰہ ضرورقوت والا، غلبے والا ہے۔
{اَلَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمْ بِغَیۡرِ حَقٍّ: وہ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا گیا۔} یعنی ان لوگوں کو جہاد کی اجازت دے دی گئی جنہیں ان کے گھروں سے صرف اتنی بات پرناحق نکال دیا گیا اور بے وطن کیا گیا کہ انہوں نے کہا ’’ہمارا رب صرف اللّٰہ ہے‘‘ حالانکہ یہ کلام حق ہے اور حق پر گھروں سے نکالنا اور بے وطن کرنا قطعی طور پر ناحق ہے۔(1)
{وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمۡ بِبَعْضٍ:اور اگر اللّٰہ آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا۔}آیت کے اس حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ جہاد کی اجازت دے کر اور حدود قائم فرما کر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ مشرکین غالب آجاتے اور کوئی دین و ملت والا ان کی سر کشی سے نہ بچ پاتا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں یہودیوں کے کلیساؤں ، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں راہبوں کی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…جلالین، الحج، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۲۸۳، روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۴۰، ۶/۳۹، ملتقطاً۔