کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کی گئی :کیوں نہیں !ارشاد فرمایا ’’(وہ چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ‘‘ ہے۔(1)
حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ ’’لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ‘‘ کے ساتھ دعا مانگے ، پھر وہ اس مرض میں فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔(2)
{فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقْدِرَ:تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’ جس شخص نے یہ گمان کیا کہ اللّٰہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے، اور یہ ایسی بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں تو انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر قادر نہیں بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گمان کیا کہ اللّٰہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔(3)
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے علاوہ دیگر معتبر مفسرین نے بھی اس آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی اسی معنی کو اختیار کیا ہے اور ہم نے بھی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور دیگر معتبر مفسرین کی پیروی کرتے ہوئے اس آیت میں لفظ ’’لَنۡ نَّقْدِرَ‘‘کا ترجمہ’’ ہم تنگی نہ کریں گے‘‘کیا ہے۔
فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ ۙ وَ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الْغَمِّ ؕوَکَذٰلِکَ نُـْۨـجِی الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ،من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب اللّٰہ لہ،۲/۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷۔
2…مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸۔
3…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ۸/۱۸۰۔