کی ، پھر درجہ بدرجہ مُقَرَّبِین کی۔ آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں مضبوط ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے اور اگر وہ دین میں کمزور ہو تو دین کے حساب سے آزمائش کی جاتی ہے۔ بندے کے ساتھ یہ آزمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر ا س طرح چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔(1)
حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’بڑا ثواب بڑی مصیبت کے ساتھ ہے،اور جب اللّٰہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ محبت فرماتا ہے تو انہیں آزماتا ہے،پس جو اس پر راضی ہو اس کے لئے (اللّٰہ تعالیٰ کی ) رضا ہے اور جو ناراض ہو اس کے لئے ناراضی ہے۔(2)
حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا سے معلوم ہونے والے مسائل:
حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جیسے دعا کی اس سے تین باتیں معلوم ہوئیں:
(1)…آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرنا بھی دعا ہے، اور اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بھی دعا ہے۔
(2)… دعا کے وقت اللّٰہ تعالیٰ کی حمد کرنا انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے ۔
(3)… دعا میں اللّٰہ تعالیٰ کی ایسی حمد کرنی چاہیے جو دعا کے موافق ہو، جیسے رحمت طلب کرتے وقت رحمن ورحیم کہہ کر پکارے۔
فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَکَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّ اٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَ مِثْلَہُمۡ مَّعَہُمْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنۡدِنَا وَ ذِکْرٰی لِلْعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے اس کی دعا سن لی تو ہم نے دور کردی جو تکلیف اسے تھی اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کئے اپنے پاس سے رحمت فرما کر اور بندگی والوں کے لیے نصیحت ۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴/۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۶۔
2…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴/۱۷۸، الحدیث: ۲۴۰۴۔