Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
339 - 695
چنانچہ علامہ احمد طحطاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ۔انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ ان کا سب کچھ اللّٰہ تعالیٰ کی ملک ہے اور جو کچھ ان کے قبضے میں ہے وہ امانت ہے اور یہ اسے خرچ کرنے کے مقامات پر خرچ کرتے ہیں اور غیر محل میں خرچ کرنے سے رکتے ہیں اور ا س لئے کہ زکوٰۃ اس کے لئے پاکی ہے جو گناہوں کی گندگی سے پاک ہونا چاہے جبکہ انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہونے کی وجہ سے گناہوں کی گندگی سے پاک ہیں۔(1)
	علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دُرِّ مختار کی اس عبارت’’اس پر اجماع ہے کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر زکوٰۃ واجب نہیں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں ’’ کیونکہ زکوٰۃ اس کے لئے پاکی ہے جو گندگی( یعنی مال کے میل) سے پاک ہونا چاہے جبکہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس سے بری ہیں ۔ (یعنی ان کے مال ابتدا سے ہی میل سے پاک ہیں۔)(2)
	 لہٰذا جن آیات میں انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو زکوٰۃ دینے کا فرمایا گیا ان سے یا تو تزکیۂ نفس یعنی نفس کو ان چیزوں سے پاک رکھنا مراد ہے جو شانِ نبوت کے خلاف ہیں یاان سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی امت کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیں۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر اللّٰہ تعالیٰ کے احسانات:
	خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پرطرح طرح کے احسانات فرمائے ، پہلا تو یہ کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بچپن سے ہی رشد وہدایت سے نوازا۔ دوسرا یہ کہ ظالم وجابر بادشاہ کے مقابلہ میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غلبہ عطا فرمایا۔ تیسرا یہ کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے شہر کی طرف ہجرت کروائی ،چوتھا یہ کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کونیک صالح اولاد عطا کی اور پانچواں یہ کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد کوبھی نبوت عطاکی ۔ 
وَ لُوۡطًا اٰتَیۡنٰہُ حُکْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الْقَرْیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ ؕ اِنَّہُمْ کَانُوۡا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۴﴾ وَاَدْخَلْنٰہُ فِیۡ رَحْمَتِنَا ؕ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…حاشیہ الطحطاوی علی المراقی، کتاب الزکاۃ، ص۷۱۳۔
2…رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکاۃ، ۳/۲۰۲۔