Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
29 - 695
سے اس میں سوراخ نہ کر سکے۔(1)
قَالَ ہٰذَا رَحْمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّیۡ ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیۡ جَعَلَہٗ دَکَّآءَ ۚ وَکَانَ وَعْدُ رَبِّیۡ حَقًّا ﴿ؕ۹۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہایہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ذوالقرنین نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تواسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔
{قَالَ:کہا۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ یہ دیوار میرے ربعَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے کیونکہ یہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے میں رکاوٹ ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔(2)
	یاجوج اور ماجوج کے نکلنے سے متعلق ترمذی شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یاجوج ماجوج روزانہ اس دیوار کوکھودتے رہتے ہیں حتّٰی کہ جب اسے توڑنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے :اب واپس چلو ،باقی کل توڑ لیں گے ۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ اسے پہلے سے بہتر کر دیتا ہے یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللّٰہ تعالیٰ انہیں لوگوں پر بھیجنا چاہے گا تو ان کا سردار کہے گا: واپس لوٹ جاؤ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ !کل تم اسے توڑ ڈالو گے۔ (یہ بات)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۹۷، ۵/۲۹۹۔
2…خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۹۸، ۳/۲۲۶، جلالین، الکہف، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۲۵۲، ملتقطاً۔