ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا:اے سامری! تو تیرا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو میں نے فرشتے کے نشان سے ایک مٹھی بھر لی پھر اسے ڈال دیا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا۔
{فَمَا خَطْبُکَ یٰسَامِرِیُّ:اے سامری! تو تیرا کیا حال ہے؟} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جواب سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’اے سامری! تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس کی وجہ بتا ۔ سامری نے کہا: میں نے وہ دیکھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں نے نہ دیکھا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا ’’تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: میں نے حضرت جبریل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا ،وہ زندگی کے گھوڑے پر سوار تھے ،اس وقت میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں تو میں نے وہاں سے ایک مٹھی بھر لی پھر اِسے اُس بچھڑے میں ڈال دیا جو میں نے بنایا تھا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا اور یہ فعل میں نے اپنی ہی نفسانی خواہش کی وجہ سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و مُحرِّک نہ تھا۔(1)
قَالَ فَاذْہَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْحَیٰوۃِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ ۪ وَ اِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَہٗ ۚ وَانۡظُرْ اِلٰۤی اِلٰـہِکَ الَّذِیۡ ظَلْتَ عَلَیۡہِ عَاکِفًا ؕ لَنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّہٗ فِی الْـیَمِّ نَسْفًا ﴿۹۷﴾ اِنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمُ اللہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاہُوَ ؕ وَسِعَ کُلَّ شَیۡءٍ عِلْمًا ﴿۹۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے چھو نہ جا اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے رہا قسم ہے ہم ضرور
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۹۵-۹۶، ص۷۰۱، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۹۵-۹۶، ۳/۲۶۲، ملتقطاً۔