Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
173 - 695
موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس آگ کے پاس تشریف لائے تو وہاں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک سرسبز و شاداب درخت دیکھا جو اوپر سے نیچے تک انتہائی روشن تھا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جتنا اس کے قریب جاتے اتنا وہ دور ہوجاتا اور جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامٹھہر جاتے ہیں تو وہ قریب ہوجاتا ، اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ! بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار دے کہ اس میں عاجزی کا اظہار، مقدس جگہ کا احترام اور پاک وادی کی خاک سے برکت حاصل کرنے کا موقع ہے ، بیشک تو اس وقت پاک وادی طُویٰ میں ہے۔(1)
آیت’’فَاخْلَعْ نَعْلَیۡکَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت اور ا س کی تفسیر سے چار باتیں معلوم ہوئیں:
(1)…پاک اور مقدس جگہ پر جوتے اتار کر حاضر ہونا چاہئے کہ یہ ادب کے زیادہ قریب ہے۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا اور مُناجات کرتے وقت جوتے اتار دینے چاہئیں۔
(3)…مقدس جگہ سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کے ساتھ اپنابدن مَس کرسکتے ہیں۔
(4)…مقدس جگہ کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ یہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ اسی وجہ سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے مزارات اور اس سرزمین کا ادب کیا جاتا ہے جہاں وہ آرام فرما ہیں۔ ہمارے بزرگانِ دین مقدس مقامات کا ادب کس طرح کیا کرتے تھے اس سلسلے میںایک حکایا ت ملاحظہ ہو ، چنانچہ
	 حضرت امام شافعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے (مدینہ منورہ میں) حضرت امام مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دروازے پر خراسان کے گھوڑوں کا ایک ایسا ریوڑ دیکھا کہ میں نے اس سے اچھا نہیں دیکھا تھا۔ میں نے حضرت امام مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی: یہ کتنا خوبصورت ہے۔ انہوں نے فرمایا ’’اے ابو عبداللّٰہ! یہ میری طرف سے تمہارے لئے تحفہ ہے۔ میں نے عرض کی: آپ اس میں سے ایک جانور اپنی سواری کے لئے رکھ لیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: مجھے اللّٰہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں اس مبارک مٹی کو جانور کے (اوپر سوار ہو کر اس کے) کھروں سے روندوں جس میں اللّٰہ تعالیٰ کے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ(کا روضۂ انور) موجود ہے۔(2)
ہاں ہاں رہِ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ	او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ص۶۸۷۔
2…احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامہما۔۔۔ الخ، ۱/۴۸۔