Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
109 - 695
 حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا ۔
(2)… اللّٰہ تعالیٰ کے لئے ہجرت کرنے اور اپنے گھر بار کو چھوڑنے کی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یہ جزا ملی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے اور پوتے عطا فرمائے ۔
وَوَہَبْنَا لَہُمۡ مِّنۡ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَہُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا ﴿٪۵۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کیلئے سچی بلند شہرت رکھی۔
{وَوَہَبْنَا لَہُمۡ مِّنۡ رَّحْمَتِنَا:اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے انہیں دنیا و آخرت کی عظیم ترین نعمت نبوت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں وسیع رزق اور اولاد عطا کی اور ان کیلئے سچی بلند شہرت رکھی کہ ہر دین والے مسلمان ہوں خواہ یہودی یا عیسائی سب ان کی ثنا و تعریف کرتے ہیں اور مسلمانوںمیں تو نمازوں کے اندر ان پر اور ان کی آل پر درود پڑھا جاتا ہے۔(1)
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آزر کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس واقعے سے چار باتیں معلوم ہوئیں
(1)…حق کی طرف ہدایت دینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ نرم مزاج اور اچھے اَخلاق والا ہو کیونکہ عام طور پر جو بات سختی سے کہی جاتی ہے ، سننے والا اس سے منہ پھیر لیتا ہے البتہ جہاں سختی کا موقع ہو وہاں اُسی کو بروئے کار لایا جائے۔ 
(2)…اپنے سے بڑے مرتبے والے کی پیروی کی جائے۔ یاد رہے کہ اطاعت و فرمانبرداری میں سے سب سے بڑا مرتبہ اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ہے اور صحابہ و اَئمۂ دین کی پیروی بھی در حقیقت اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہی پیروی ہے۔
(3)… جو شخص دنیا و آخرت میں ظاہری و باطنی سلامتی چاہتا ہے وہ برے ساتھیوں اور بد مذہب لوگوں سے جدا ہو جائے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳/۲۳۷، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۶۷۶، ملتقطاً۔