Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
98 - 601
لِلَّذِیۡنَ اسْتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰی ؕؔ وَالَّذِیۡنَ لَمْ یَسْتَجِیۡبُوۡا لَہٗ لَوْ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا وَّمِثْلَہٗ مَعَہٗ لَافْتَدَوْا بِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ سُوۡٓءُ الْحِسَابِ ۬ۙ وَمَاۡوٰىہُمْ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئْسَ الْمِہَادُ ﴿٪۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان:جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی مِلک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی برا بچھونا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ان کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
{لِلَّذِیۡنَ اسْتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰی:جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے تو انہیں کے لئے بھلائی یعنی جنت ہے اور جو لوگ اپنے کفر و شرک پر قائم رہے، ان کا حال یہ ہو گا کہ یہ اس قدر خوفناک اور تکلیف دِہ حالت میں ہوں گے کہ اس سے جان چھڑانے کیلئے اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اس کے ساتھ ہوتا تو قیامت کے دن جہنم کے عذاب سے اپنی جانوں کو بچانے کے لئے فدیے کے طور پر دیدیتے لیکن ان کی جان پھر بھی نہ چھوٹتی۔
حساب کی سختی کا خوف:
	 اس آیت میں اگرچہ کفار کے حساب میں سختی کئے جانے کا ذکر ہے لیکن جداگانہ طور پر مسلمانوں کو بھی حساب کی