Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
482 - 601
{وَ اِذْ قُلْنَا:اور جب ہم نے کہا۔} یہاں سے ایک مرتبہ پھر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ان کی قوم اور ان کے اہلِ زمانہ کی طرف سے پہنچنے والی مشقتوں کا ذکر فرمایا جبکہ اس آیت سے یہ بیان فرمایا کہ سابقہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ ان کے اہلِ زمانہ کی ایسی ہی رَوِش رہی ہے، ان میں سے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھ لیں کہ جو اللّٰہ تعالیٰ کے سب سے پہلے مقرب بندے ہیں ،انہیں ابلیس کی طرف سے کیسی شدید مشقت کا سامنا ہوا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قوم نے ان سے صرف تکبر اور حسد کی وجہ سے جھگڑا کیا اور ان کے خلاف طرح طرح سے باطل شبہات پیش کئے، تکبر کی بنا پر یہ لوگ ایمان سے محروم رہے اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبوت اور بلند درجہملنے پر ان سے حسد کیا۔ اس آیت میںاللّٰہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ تکبر اور حسد نے ہی ابلیس کو ایمان سے نکال کر کفر میں داخل کر دیا ، مخلوق میں تکبر اور حسد بڑا پرانا مرض ہے۔(1) آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا لیکن شیطان نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے حسد اور اپنی ذات کے تکبر کی وجہ سے یہ جواب دیا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے حالانکہ میری پیدائش آگ سے ہے اور میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے افضل ہوں۔ 
قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمْتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیِّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۶۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولا دیکھ تو جو یہ تو نے مجھ سے معزز رکھا اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو ضرور میں اس کی اولاد کو پیس ڈالوں گا مگر تھوڑا۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: کہنے لگا: بھلا دیکھ تو جسے تو نے میرے اوپر معزز بنایا ،اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو ضرور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۱، ۷/۳۶۵۔