وَ اِذْ قُلْنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ؕ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوۡنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ ؕ وَنُخَوِّفُہُمْ ۙ فَمَا یَزِیۡدُہُمْ اِلَّا طُغْیَانًا کَبِیۡرًا ﴿٪۶۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ہم نے تم سے فرمایا کہ سب لوگ تمہارے رب کے قابو میں ہیں اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو اور وہ پیڑ جس پر قرآن میں لعنت ہے اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو انھیں نہیں بڑھتی مگر بڑی سرکشی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ہم نے تم سے فرمایا: بیشک سب لوگ تمہارے رب کے قابو میں ہیں اور ہم نے آپ کو جو مشاہدہ کرایا اسے لوگوں کیلئے آزمائش بنادیااور اس درخت کو بھی جس پرقرآن میں لعنت کی گئی ہے اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو یہ ڈراناان کی بڑی سرکشی میں اضافہ کردیتاہے۔
{وَ اِذْ قُلْنَا لَکَ: اور جب ہم نے تم سے فرمایا۔} یعنی فرمایا گیا کہ سب لوگ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قبضۂ قدرت میں ہیں تو آپ تبلیغ فرمائیے اور کسی کا خوف نہ کیجئے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا نگہبان ہے۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ کی طرف اِحاطہ کی نسبت سے کیا مراد ہے؟
یاد رکھیں کہ قرآن و حدیث میں جہاں بھی یہ مذکورہو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ گھیرے ہوئے ہے یا احاطہ کئے ہوئے ہے تو اس سے مرادیہ ہوتا ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا علم اور قدرت سب کو گھیر ے ہوئے ہے، نہ کہ خود رب تعالیٰ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات جسمانی اعتبار سے گھیرنے او ر گھرنے سے پاک ہے کہ وہ جسم سے پاک ہے۔
{اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ:مگر لوگوں کیلئے آزمائش۔} ارشاد فرمایا کہ شب ِ معراج بیداری کی حالت میں جو آیات ِ الٰہیہ کا آپ کو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۰، ۳/۱۷۹-۱۸۰۔