Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
469 - 601
رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ وَ لَّوْا عَلٰۤی اَدْبٰرِہِمْ نُفُوۡرًا ﴿۴۶﴾ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوۡنَ بِہٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ اِذْ ہُمْ نَجْوٰۤی اِذْ یَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوۡرًا ﴿۴۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے۔ ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ سنتے ہیں جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور جب آپس میں مشورہ کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں تم پیچھے نہیں چلے مگر ایک ایسے مرد کے جس پر جادو ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیںتا کہ اس قران کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ڈال دیا اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ کافرنفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ جب وہ آپ کی طرف کان لگا کر سنتے ہیں تو وہ اسے کیوں سنتے ہیں اور جب وہ آپس میں مشورہ کرتے ہیں جب ظالم کہتے ہیں : تم تو صرف ایک ایسے مرد کی پیروی کررہے ہو جس پر جادو ہوا ہے۔ 
{وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ اَکِنَّۃً: اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیں۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کفار کی ضد و اَنانِیَّت کے باعث اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں جس سے وہ قرآن کریم کو درست طور پر سمجھ نہیں سکتے اور ان کے کانوں میں بھی بوجھ ڈال دئیے جس کے باعث وہ قرآن شریف سنتے نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی صحیح سمجھ ایمان اور تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے، اس کے بغیر بسا اوقات ذہن الٹا کام کرتا ہے جیسا آجکل دیکھا جا رہا ہے۔ ہر کتا ب روشنی میں پڑھی جاتی ہے، قرآن کو پڑھنے، سمجھنے کیلئے روشنی تقویٰ ہے۔ لہٰذا فہمِ قرآن کیلئے اس روشنی کو حاصل کرنا چاہیے۔