کرے اور دوسرا ارادہ کرتا ہے کہ وہ ساکن رہے ۔اب حرکت اور سکون دونوں چیزیں فی نفسہ ممکن تو ہیں ، اسی طرح دو خداؤں کا حرکت اور سکون میں سے ہر ایک چیز کا ارادہ کرنا بھی ممکن ہے لیکن دونوں کے ارادے کے بعد ہوتا کیا؟ اگر ان کے ارادوں کے مطابق حرکت اور سکون دونوں چیزیں واقع ہوں تو دو مُتَضاد چیزوں کا جمع ہونا لازم آئے گا اور اگر دونوں واقع نہ ہوں تو ان خداؤں کا عاجز ہونا لازم آئے گا اور اگر ایک واقع ہو دوسری نہ ہو تو دونوں میں سے ایک خدا کا عاجز ہونا لازم آئے گا اور جو عاجز ہے وہ خدا نہیں کیونکہ عاجز ہونا محتاجی اور نقص ہے اور وا جبُ الوجود ہونے کے مُنافی ہے تو ثابت ہوا کہ دو خدا ہونا ہی محال ہے ۔
تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الۡاَرْضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنۡ لَّا تَفْقَہُوۡنَ تَسْبِیۡحَہُمْ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اس کی پاکی بولتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی نہ بولے ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے بیشک وہ حلم والا بخشنے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ساتوں آسمان اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب اسی کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی بھی شے ایسی نہیں جو اس کی حمد بیان کرنے کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ۔ بیشک وہ حلم والا، بخشنے والا ہے۔
{تُسَبِّحُ لَہُ: اس کی پاکی بیان کرتی ہے۔} اِس آیت میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت کا بیان ہے، چنانچہ فرمایا کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں بسنے والی ساری مخلوق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے اور یہ تسبیح دونوں طرح ہے، زبانِ حال سے بھی اور وہ اس طرح کہ تمام مخلوقات کے وجود اپنے صانِع یعنی بنانے والے کی قدرت و حکمت پر دلالت کرتے ہیں اور یہ تسبیح زبانِ قال سے بھی ہے۔(1) اور یہ بھی ثابت وصحیح ہے اور اَحادیثِ کثیرہ اس پر دلالت کرتی ہیں اور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۴۴، ۵/۱۶۲، ملخصاً۔