گیا ہے ، پہلے قرآن کے بارے میں پھر توحید ِ باری تعالیٰ کے بارے میں ،پھر رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں اور پھر قیامت کے بارے میں۔ سب سے پہلے قرآن کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس قرآن میں نصیحت کی باتیں بار بار بیان فرمائیں اور کئی طرح سے بیان فرمائیں جیسے کہیں دلائل سے، تو کہیں مثالوں سے، کہیں حکمتوں سے اور کہیں عبرتوں سے اور ان مختلف اندازوں میں بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگ کسی طرح نصیحت و ہدایت کی طرف آئیں اور سمجھیں۔ یہاں قرآنِ پا ک نے علمِ نَفسیات کے ایک اصول کو بیان فرما دیا کہ لوگوں سے ان کی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق کلام کیا جائے کیونکہ بعض لوگ دلائل سے مانتے ہیں اور بعض ڈر سے اور کچھ مثالوں سے۔ یونہی بعض اوقات ایک آدمی کی حالت ہی مختلف ہوتی رہتی ہے ، کسی وقت اسے ڈرا کر سمجھانا مفید ہوتا ہے اور کسی وقت نرمی سے ۔ تو قرآنِ پاک نے تمام لوگوں کو ان کے تمام اَحوال کی رعایت کرتے ہوئے سمجھایا ہے۔ لیکن آیت کے آخر میں فرمایا کہ اس اِصلاح و تفہیم نے کفار کی حق سے نفرت میں ہی اضافہ کیا کیونکہ بارش اگرچہ بابرکت ہوتی ہے لیکن اگر کسی جگہ پر گندگی کا ڈھیر ہو تووہاں بدبو میں ہی اضافہ ہوتا ہے۔
قُلۡ لَّوْکَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّاکَبِیۡرًا ﴿۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا یہ بکتے ہیں جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔ اسے پاکی اور برتری ان کی باتوں سے بڑی برتری۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ:جیسا کافر کہہ رہے ہیں اس طرح اگر اللّٰہ کے ساتھ اور معبود ہوتے جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔ وہ ظالموں کی بات سے پاک اوربہت ہی بلندوبالا ہے۔
{قُلْ: تم فرماؤ۔}اس آیت میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنی توحید کی ایک قطعی مگر نہایت عام فہم دلیل بیان فرمائی ہے کہ بالفرض اگر دو خدا ہوتے تو ان میں ایک کادوسرے سے ٹکراؤ لازمی طور پر ممکن ہوتا جیسے ان میں سے ایک ارادہ کرتا کہ زید حرکت