Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
461 - 601
کہ میں نے کہیں سنا تھا یا مجھے کسی نے بتایا تھا، اب کس نے بتایا، بتانے والا کتنا معتبر تھا؟ اس کو کہاں سے پتہ چلا؟ اس کے پاس کیا ثبوت ہیں؟ کوئی معلوم نہیں۔
{کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا:ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔}آیت کے آخر میں فرمایا کہ کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ تم نے اُن سے کیا کام لیا؟ کان کو قرآن وحدیث سننے، علم و حکمت اور وعظ و نصیحت کی اور ان کے علاوہ دیگر نیک باتیں سننے میں استعمال کیا یا غیبت سننے، لَغْو اور بیکار باتیں سننے، جِماع کی باتیں سننے ، بہتان، زنا کی تہمت ، گانے، باجے اور فحش سننے میں لگایا۔ یونہی آنکھ سے جائز و حلال کو دیکھا یا فلمیں، ڈرامے دیکھنے اور بدنگاہی کرنے میں استعمال کیا اور دل میں صحیح عقائد اور اچھے اور نیک خیالات و جذبات تھے یاغلط عقائد اور گندے منصوبے اور شہوت سے بھرے خیالات ہی ہوتے تھے۔ اس آیت کی مناسبت سے ایک مسئلہ بھی ہے کہ خیال ہی خیال میں کسی عورت سے بدکاری کرنا بھی حرام ہے اور یہ دل کے زنا میں داخل ہوگا۔
وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخْرِقَ الۡاَرْضَ وَلَنۡ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾ کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوۡہًا ﴿۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔ یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بُری بات تیرے رب کو ناپسند ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا۔ ان تمام کاموںمیں سے جو برے کام ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ 
{وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل۔} یعنی تکبر و خود نمائی سے نہ چل۔(1)
اسلام ہماری مُعاشرت اور رہن سہن کے طریقے بھی سکھاتا ہے:
	یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں، ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۲۳۳۔