Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
460 - 601
{وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ:اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔} یعنی جس چیز کو دیکھا نہ ہو اُس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا ہے اور جس بات کو سنا نہ ہو اس کے بارے میںیہ نہ کہو کہ میں نے سنا ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جھوٹی گواہی نہ دو۔ اور حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا ’’اس سے مراد یہ ہے کہ کسی پرو ہ الزام نہ لگاؤ جو تم نہ جانتے ہو۔(1) ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’خلاصہ یہ ہے کہ ا س آیت میں جھوٹی گواہی دینے ،جھوٹے الزامات لگانے اور اس طرح کے دیگر جھوٹے اَقوال کی مُمانعت کی گئی ہے۔(2)
جھوٹی گواہی دینے اور غلط الزامات لگانے کی مذمت پر اَحادیث:
	یہاںجھوٹی گواہی دینے اور غلط الزامات لگانے کی مذمت پر 3 روایات ملاحظہ ہوں۔
(1)…حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے ، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(3)
(2)… حضرت معاذ بن انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کرے تو اللّٰہ تعالیٰ جہنم کے پل پر اسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پا لے۔(4)
(3)…حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مسلمان پر ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں وہ خود بھی جانتا نہ ہو تو اللّٰہ تعالیٰ اسے (جہنم کے ایک مقام) ’’رَدْغَۃُ الْخَبَالْ‘‘ میں اس وقت تک رکھے گا جب تک کہ اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پالے۔(5)
	اِس آیت اور دیگر روایات کو سامنے رکھنے کی شدید حاجت ہے کیونکہ آج کل الزام تراشی کرنا اس قدر عام ہے کہ کوئی حد ہی نہیں، جس کا جو دل کرتا ہے وہ دوسروں پر الزام لگادیتا ہے، جگہ جگہ ذلیل کرتا ہے اور ثبوت مانگیں تو یہ دلیل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۶۲۳۔
2…تفسیرقرطبی، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۶، ۵/۱۸۷، الجزء العاشر ۔
3…ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شہادۃ الزور، ۳/۱۲۳، الحدیث: ۲۳۷۳۔
4…ابوداؤد، کتاب الادب، باب من ردّ عن مسلم غیبۃ، ۴/۳۵۴، الحدیث: ۴۸۸۳۔
5…کتاب الجامع فی آخر المصنّف، باب من حلّت شفاعتہ دون حدّ،۱۰/۳۵۳، الحدیث: ۲۱۰۶۹۔