فرمایا’’ جو شخص ایسی عیب دار چیز فروخت کردے جس کے عیب پر خبردار نہ کیا ہو تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۔(1)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں، حضور ِاقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَغلہ کے ایک ڈھیر پر گزرے تو اپنا ہاتھ شریف اس میں ڈال دیا، آپ کی انگلیوں نے اس میں تری پائی تو ارشاد فرمایا ’’اے غلہ والے !یہ کیا ہے۔ اس نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ تو گیلے غلہ کو تو نے ڈھیر کے اوپر کیوں نہ ڈالا تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے، جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔(2)
حضرت معاذبن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تمام کمائیوں میں زیادہ پاکیزہ اُن تاجروں کی کمائی ہے کہ جب وہ بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں اور جب اُن کے پاس امانت رکھی جائے توخیانت نہ کریں اور جب وعدہ کریں تو اُس کا خلاف نہ کریں اور جب کسی چیز کو خریدیںتو اُس کی مذمت (برائی) نہ کریں اور جب اپنی چیز بیچیں تو اُس کی تعریف میں مبالغہ نہ کریں اور ان پر کسی کا آتا ہو تو دینے میں ڈھیل نہ ڈالیں اور جب ان کا کسی پر آتا ہو تو سختی نہ کریں۔(3)
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶﴾ترجمۂکنزالایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب من باع عیباً فلیبیّنہ، ۳/۵۹، الحدیث: ۲۲۴۷۔
2…مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من غشّنا فلیس منّا، ص۶۵، الحدیث: ۱۰۲۔
3…شعب الایمان، الرابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴/۲۲۱، الحدیث: ۴۸۵۴۔