{وَاَوْفُوۡا بِالْعَہۡدِ: اور عہد پورا کرو۔} آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے(1)اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں۔
وَ اَوْفُوا الْکَیۡلَ اِذَاکِلْتُمْ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیۡمِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ماپو تو تو پورا ماپو اور برابر ترازو سے تولویہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ناپ کرو تو پورا ناپ کرو اور بالکل صحیح ترازو سے وزن کرو ۔یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔
{وَ اَوْفُوا الْکَیۡلَ: اور پورا ماپ کرو۔} دیتے وقت ناپ تول پورا کرنا فرض ہے بلکہ کچھ نیچا تول دینا یعنی بڑھا کر دینا مستحب ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے خود اس کی فضیلت بیان فرمائی کہ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا ہے، آخرت میں تو یقینا اچھا ہی انجام ہے ، دنیا میں بھی اس کا انجام اچھا ہوتا ہے کہ لوگوں میں نیک نامی ہوتی ہے جس سے تجارت چمکتی ہے۔ آج دنیا بھر میں لوگ ان ممالک سے خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں جہاں سے صحیح مال صحیح وزن سے ملتا ہے اور جہاں سیب کی پیٹیوں کے نیچے آلو پیاز نکلیں یا پہلی تہ اعلیٰ درجے کی نکلنے کے بعد نیچے سڑا ہوا مال نکلے وہاں کا جو انجام ہوتا ہے وہ سب سمجھ سکتے ہیں۔
خرید و فروخت سے متعلق اسلام کی تعلیمات:
خرید و فروخت سے متعلق اسلام کی چندتعلیمات یہ ہیں :
حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵/۱۵۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳/۱۷۴، ملتقطاً۔