Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
457 - 601
علاقائی اور صوبائی تَعَصُّب کی وجہ سے، یونہی کہیں زبان کے نام پر تو کہیں فرقہ بندی کے نام پر۔ ان میں سے کوئی بھی صورت جائز نہیں ہے۔ قتل کی اجازت صرف مخصوص صورتوں میں حاکمِ اسلام کو ہے اور کسی کو نہیں۔ 
وَلَاتَقْرَبُوۡا مَالَ الْیَتِیۡمِ اِلَّابِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ۪ وَاَوْفُوۡا بِالْعَہۡدِ ۚ اِنَّ الْعَہۡدَکَانَ مَسْـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس راہ سے جو سب سے بھلی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اسی طریقے سے جو سب سے اچھا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی پکی عمر کو پہنچ جائے اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ 
{وَلَاتَقْرَبُوۡا مَالَ الْیَتِیۡمِ:اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ۔} اس آیت میں ایک کبیرہ گناہ سے منع کیا گیا ہے اور ایک اہم چیز کا حکم دیا گیا ہے۔ کبیرہ گناہ تو یتیم کے مال میں خیانت کرنا ہے اور اہم چیز وعدہ پورا کرنا ہے۔ یتیم کا کل یا بعض مال غصب کرلینا ،اس میں خیانت کرنا، اس کے دینے میں بلاوجہ ٹال مٹول کرنا یہ سب حرام ہے چنانچہ فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر صرف اچھے طریقے سے اور وہ یہ ہے کہ اس کی حفاظت کرو اور اس کو بڑھاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کا ولی یتیم کے مال سے تجارت وغیرہ کر سکتا ہے، جس سے اس کا مال بڑھے کہ یہ احسن میں داخل ہے اور ایسے ہی اس کا روپیہ سود کے بغیر بینک وغیرہ میں اس کے نام پر رکھنا جائز ہے کہ یہ حفاظت کی قسم ہے۔ دوسرا حکم یہاں ارشاد فرمایا کہ یتیموں کا مال ان کے حوالے کردو جب وہ یتیم اپنی پُختہ عمر کو پہنچ جائے اور وہ اٹھارہ سال کی عمر ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے نزدیک یہی مختار ہے اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے علامات ظاہر نہ ہونے کی حالت میں انتہائی مدت ِبلوغ اسی آیت سے اِستدلال کرکے اٹھارہ سال قرار دی ہے۔(1)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرات احمدیہ، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۵۰۸۔