وَکَمْ اَہۡلَکْنَا مِنَ الْقُرُوۡنِ مِنۡۢ بَعْدِ نُوۡحٍ ؕ وَکَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے کتنی ہی سنگتیں نوح کے بعد ہلاک کردیں اور تمہارا رب کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار دیکھنے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے نوح کے بعد کتنی ہی قومیں ہلاک کردیں اور تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی کافی خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہے۔
{وَکَمْ اَہۡلَکْنَا مِنَ الْقُرُوۡنِ: اور کتنی ہی قومیں ہم نے ہلاک کردیں۔} یعنی حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے کے بعد کتنی ہی تکذیب کرنے والی اُمتیں جیسے قومِ عاد ، قومِ ثمود اور قومِ لوط وغیرہ ہم نے ہلاک کردیں کیونکہ انہوں نے اپنے نبیوںعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مخالفت کی ، لہٰذا مکہ والوں کو عبر ت حاصل کرنی چاہیے۔(1) اور ان کے ساتھ ساری کائنات کے لوگوں کو اس سے خبردار رہنا چاہیے کہ اگر انہوں نے سابقہ امتوں کی طرح اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی والا راستہ اختیار کیا اور اسی پر قائم رہے تو اللّٰہ تعالیٰ ان امتوں کی طرح انہیں بھی کہیں عذاب میں مبتلا نہ کر دے۔
{وَکَفٰی بِرَبِّکَ:اور تمہارا رب کافی ہے۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں ’’اللّٰہ تعالیٰ تمام معلومات کو جاننے والا، تمام دیکھی جانے والی چیزوں کو دیکھنے والا ہے لہٰذا مخلوق کا کوئی حال بھی اللّٰہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ تمام مُمکِنات پر قادر ہے لہٰذا وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی ویسی جزا دینے پر بھی قدرت رکھتا ہے جس کا وہ مستحق ہے نیز اللّٰہ تعالیٰ عَبث اور ظلم سے بھی پاک ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی ان تین صفات یعنی مکمل علم، کامل قدرت اور ظلم سے براء ت میں فرمانبرداروں کے لئے عظیم بشارت جبکہ کافروں اور گناہگاروں کے لئے عظیم خوف ہے۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳/۱۶۹، ملخصاً۔
2…تفسیر کبیر، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱۷، ۷/۳۱۶۔