Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
400 - 601
مبتلا کر دے گا۔(1)
اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجٰدِلْہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ،بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ 
{اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ:اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تین طریقوں سے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم فرمایا۔ (1) حکمت کے ساتھ۔ اس سے وہ مضبوط دلیل مراد ہے جو حق کو واضح اور شُبہات کو زائل کردے۔ (2) اچھی نصیحت کے ساتھ۔ اس سے مراد ترغیب و ترہیب ہے یعنی کسی کام کو کرنے کی ترغیب دینا اور کوئی کام کرنے سے ڈرانا ۔ (3) سب سے اچھے طریقے سے بحث کرنے کے ساتھ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف اس کی آیات اور دلائل سے بلائیں۔(2)اس سے معلوم ہوا کہ دعوتِ حق اور دین کی حقانیت کو ظاہر کرنے کے لئے مناظرہ جائز ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۳/۱۵۱۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۳/۱۵۱، ملخصاً۔