(4)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ بات کرتا ہے اور محض اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلہ سے زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی قدم سے لغز ش ہوتی ہے۔(1)
نوٹ: جھوٹ سے متعلق مزید معلومات کے لئے بہار شریعت حصہ 16 سے’’ جھوٹ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔
مَنۡ کَفَرَ بِاللہِ مِنۡۢ بَعْدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ وَ لٰکِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیۡہِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللہِ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: جو ایمان لا کر اللّٰہ کا منکر ہو سوا اس کے جو مجبور کیا جا ئے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللّٰہ کا غضب ہے اور ان کو بڑاعذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو ایمان لانے کے بعد اللّٰہ کے ساتھ کفر کرے سوائے اس آدمی کے جسے (کفرپر) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پرجما ہوا ہولیکن وہ جو دل کھول کر کافر ہوں ان پر اللّٰہ کا غضب ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔
{مَنۡ کَفَرَ بِاللہِ مِنۡۢ بَعْدِ اِیۡمَانِہٖۤ:جو ایمان لانے کے بعد اللّٰہ کے ساتھ کفر کرے۔} شانِ نزول :یہ آیت حضرت عمار بن یاسررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر ، ان کی والدہ حضرت سمیہ، حضرت صہیب ، حضرت بلال ، حضرت خباب اور حضرت سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو پکڑ کر کفار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں (لیکن یہ حضرات اسلام سے نہ پھرے تو) کفار نے حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والدین کو بڑی بے رحمی سے شہیدکر دیا۔ حضرت عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (ضعیف تھے جس کی وجہ سے بھاگ نہیں سکتے تھے، انہوں) نے مجبور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…شعب الایمان، الرابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴/۲۱۳، الحدیث: ۴۸۳۲۔