الْبَصَرِ اَوْ ہُوَ اَقْرَبُ‘‘یعنی قیامت قائم کرنے کا معاملہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت میںصرف ایک پلک جھپکنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے کیونکہ پلک مارنا بھی زمانہ چاہتا ہے جس میں پلک کی حرکت حاصل ہو اور اللّٰہ تعالیٰ جس چیز کا ہونا چاہے وہ کُنْ فرماتے ہی ہوجاتی ہے۔(1)
وَاللہُ اَخْرَجَکُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ شَیْـًٔا ۙ وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالۡاَبْصَارَ وَالۡاَفْـِٕدَۃَ ۙ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۷۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے کہ تم احسان مانو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو۔
{وَاللہُ اَخْرَجَکُمۡ:اور اللّٰہ نے تمہیں پیدا کیا ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر دلالت کرنے والے مزید مَظاہِر بیان فرمائے، اور وہ یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اپنی پیدائش کی ابتداء اور اوّل فِطرت میں علم و معرفت سے خالی تھے، پھر اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے کان ، آنکھیں اور دل بنائے، یہ حواس ا س لئے عطا کیے تا کہ تم ان سے اپنا پیدائشی جہل دور کرو اور تم شکر گزار بنو، علم و عمل سے فیض یاب ہو جاؤ اور یہ حواس اس لئے عطا کئے تاکہ تم نعمتیں عطا کرنے والے کا شکر بجالائو اور اس کی عبادت میں مشغول ہوجاؤ اور اس کی نعمتوں کے حقوق ادا کرو۔(2) لہٰذا ہر عضو کا ’’شکر‘‘ یہ ہے کہ اسے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگایا جائے اور ناشکری یہ ہے کہ اس عضو کو اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کیا جائے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۷۷، ۷/۲۴۹-۲۵۰، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۷۷، ۳/۱۳۶، ملتقطاً۔
2…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۷۸، ص۶۰۴، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۷۸، ۳/۱۳۶، ملتقطاً۔