کہ بیٹا پیدا ہوا ہے تو وہ خوش ہوجاتا اور اپنی قوم کے سامنے آ جاتا اور جب اسے پتا چلتا کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو وہ غمزدہ ہو جاتا اور شرم کے مارے کئی دنوں تک لوگوں کے سامنے نہ آتا اورا س دوران غور کرتا رہتا کہ اس بیٹی کے ساتھ وہ کیا کرے؟ آیا ذلت برداشت کر کے ا س بیٹی کو اپنے پاس رکھے یا اسے زندہ درگور کر دے جیسا کہ مُضَر، خُزَاعہ اور تمیم قبیلے کے کئی لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔(1)
زمانۂ جاہلیت میں بیٹیوں سے متعلق کفار کا دستور اور اسلام کا کارنامہ:
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’زمانۂ جاہلیت میں کفار مختلف طریقوں سے اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے، ان میں سے بعض گڑھا کھود تے اور بیٹی کو اس میں ڈال کر گڑھا بند کر دیتے حتّٰی کہ وہ مر جاتی، اور بعض اسے پہاڑ کی چوٹی سے پھینک دیتے ، بعض ا سے غرق کر دیتے اور بعض اسے ذبح کر دیتے تھے ،ان کا بیٹیوں کو قتل کرنا بعض اوقات غیرت اور حَمِیَّت کی وجہ سے ہوتا تھا اور بعض اوقات فقر و فاقہ اور نان نفقہ لازم ہونے کے خوف سے وہ ایسا کرتے تھے۔(2) یہ اسلام ہی کا کارنامہ ہے جس نے دنیا میں سب سے پہلے عورت کو حقوق عطا فرمائے اور اسے عزت و وقار سے نوازا۔ زندہ درگور ہونے والی کو جینے کاحق دیا اور اس کی پوری زندگی کے حقوق کی ایک فہرست بیان فرما دی، اس کے باوجود اگر کوئی جاہل اسلام کی تعلیمات کوعورتوں کے حقوق کے مخالف سمجھتا ہے تو اسے اپنی جہالت اور دماغ کی خرابی کا علاج کرنے کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہئے۔
{اَلَا سَآءَ مَا یَحْکُمُوۡنَ:خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں۔} یعنی ان مشرکین نے جو فیصلہ کیا ہے وہ کتنا برا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں ثابت کرتے ہیں جو اپنے لئے انہیں انتہائی ناگوار ہیں اور یونہی یہ بات کتنی بری ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں جو رزق دیاہے اس میں بتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت ہی نہیں رکھتے اور جس رب عَزَّوَجَلَّ نے انہیں پیدا کیا اوران پر احسانات فرمائے ہیں اسے چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔(3)
لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْءِ ۚ وَ لِلہِ الْمَثَلُ الۡاَعْلٰی ؕ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳/۱۲۷-۱۲۸، ملخصاً۔
2…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۵۹،۷/۲۲۶، ملخصاً۔
3…تفسیرطبری، النحل، تحت الآیۃ: ۵۹، ۷/۶۰۰۔