Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
302 - 601
ترجمۂکنزالایمان: اور ڈر والوں سے کہا گیا تمہارے رب نے کیا اتارا بولے خوبی جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ان کے لیے بھلائی ہے اور بیشک پچھلا گھر سب سے بہتر اور ضرور کیا ہی اچھا گھر       پرہیزگاروں کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور متقی لوگوں سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا؟ تو کہتے ہیں : بھلائی نازل فرمائی۔ جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ،ان کے لیے بھلائی ہے اور بیشک آخرت کا گھر سب سے بہتر ہے اوربیشک پرہیزگاروں کا گھر کیا ہی اچھا ہے۔
{وَ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوْا:اور متقی لوگوں سے کہاجائے ۔} یعنی جب ایمانداروں سے کہا جائے کہ تمہارے ربعَزَّوَجَلَّ نے محمد مصطفیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرکیا نازل فرمایا؟ تو وہ ا س کے جواب میں کہتے ہیں’’ ہمارے ربعَزَّوَجَلَّ نے قرآن شریف نازل فرمایا جو تمام خوبیوں کا جامع اور حسنات و برکات کا منبع اور دینی و دنیوی اور ظاہری وباطنی کمالات کا سرچشمہ ہے ۔ (1) شانِ نزول: عرب کے قبائل حج کے دنوں میں رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حال کی تحقیق کے لئے مکہ مکرمہ قاصد بھیجتے تھے ،یہ قاصد جب مکہ مکرمہ پہنچتے توشہر کے داخلی راستوں پر انہیں کفار کے کارند ے ملتے (جیسا کہ سابقہ آیات میں ذکر ہوچکا ہے) اُن سے یہ قاصد رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حال دریافت کرتے تو وہ چونکہ لوگوں کوبہکانے پر مامور ہی ہوتے تھے ا س لئے ان میں سے کوئی سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ساحر کہتا، کوئی کاہن، کوئی شاعر، کوئی کذّاب، کوئی مجنون کہتا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ تم ان سے نہ ملنا یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ۔ اس پر قاصد کہتے کہ اگر ہم مکہ مکرمہ پہنچ کر اُن سے ملے بغیر اپنی قوم کی طرف واپس ہوں تو ہم برے قاصد ہوں گے اور ایسا کرنا قاصد کے منصبی فرائض کا ترک اور قوم کی خیانت ہوگی۔ ہمیں تحقیق کے لئے بھیجا گیا ہے ا س لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے اپنے اور بیگانوں سب سے اُن کے حال کی تحقیق کریں اور جو کچھ معلوم ہو اس میں کوئی کمی بیشی کئے بغیراپنی قوم کو مطلع کریں ۔اس خیال سے وہ لوگ مکہ مکرمہ میں داخل ہو کر رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے بھی ملتے تھے اور اُن سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے حال کی تحقیق کرتے تھے۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم انہیں تمام حال بتاتے تھے اورحضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حالات ، کمالات اور قرآن 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۳۰،۵/۲۹۔