ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارا معبود ایک معبود ہے تو وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ متکبر ہیں۔
{اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ:تمہارا معبود ایک معبود ہے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے ماقبل آیات میں ذکر کئے گئے قطعی دلائل سے ثابت ہوا کہ تمہاری عبادت کا مستحق ایک معبود یعنی اللّٰہ تعالیٰ ہے، وہ اپنی ذات و صفات میںنظیر و شریک سے پاک ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کاانکار کرنے والے ہیں اور وہ متکبر ہیںکہ حق ظاہر ہوجانے کے باوجود اس کی پیروی نہیں کرتے۔ (1)
قرآنی اُسلوب کی شان:
یہاں آیات میں نہایت نفیس ترتیب ہے کہ پہلے کثرت کے ساتھ دلائل کوبیان کیا گیا اور اب ان سب دلائل کا اہم ترین نتیجہ توحید ِ باری تعالیٰ کی صورت میں بیان فرمایا گیا اور دلائل و نتیجہ میں بھی کس قدر عمدہ کلام فرمایا گیا کہ کوئی منطق کی باریکیاں اور فلسفے کی موشگافیاں نہیں بلکہ انتہائی عام فہم انداز میں فطرت ِ انسانی کے قریب ترین دلائل کو جمع کرتے ہوئے بات کو سمجھادیا گیا۔ یہی وہ قرآنی اُسلوب ہے جو دل و دماغ کو تسخیر کردینے والا ہے۔
لَا جَرَمَ اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَمَا یُعْلِنُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: فی الحقیقت اللّٰہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیںاور جو ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔
{لَا جَرَمَ: حقیقت یہ ہے ۔} یعنی حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کے دلوں کے انکار اور ان کے غرور و تکبر کو جانتا ہے، بے شک اللّٰہ تعالیٰ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۵۹۳، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۲۱۷، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۱۱۸، ملتقطاً۔
2…روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۲۳، ۵/۲۴۔