Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
270 - 601
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے تم دل تنگ ہوتے ہو۔ تو اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔ تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔
{وَ لَقَدْ نَعْلَمُ:اور بیشک ہمیں معلوم ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی قوم کے مشرکوں کا آپ کو جھٹلانے ،آپ کا اور قرآن کا مذاق اڑانے کی وجہ سے آپ کو ملال ہوتا ہے، تو آپ اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے والوں کے لئے تسبیح اور عبادت میں مشغول ہونا غم کا بہترین علاج ہے۔ (1)
غم کا بہترین علاج:
	اس سے معلوم ہوا کہ غمگین شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے غم دور کرنے کیلئے اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرنے اور اس کی عبادت کرنے میں مشغول ہوجائے، اس سے اِنْ شَآءَ اللّٰہ اس کا غم دور ہو جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے، حضرت حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں’’ جب رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کوئی اہم واقعہ پیش آتا تو نماز میں مشغول ہوجاتے۔ (2)
	اور حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :جس نے صبح اور شام سات مرتبہ یہ کہا’’حَسْبِیَ اللّٰہُ لَا اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم‘‘تو اللّٰہ تعالیٰ اس چیز میں اسے کافی ہو گا جس کا اس نے ارادہ کیا۔ (3)
وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الْیَقِیۡنُ ﴿٪۹۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرطبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۷-۹۸، ۷/۵۵۳، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۹۷-۹۸، ص۵۸۸، ملتقطاً۔
2…ابوداؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من اللیل، ۲/۵۲، الحدیث: ۱۳۱۹۔
3…ابوداؤد، کتاب الادب، باب ما یقول اذا اصبح، ۴/۴۱۶، الحدیث: ۵۰۸۱۔