Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
262 - 601
ہو جائے گی اور جو سنے گا وہ اسے یاد ہو جائے گا۔ (1)
لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیۡہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم اپنی نگاہ اس مال و اسباب کی طرف نہ اٹھاؤ جس کے ذریعے ہم نے کافروں کی کئی قسموں کو فائدہ اٹھانے دیا ہے اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کیلئے اپنے بازو بچھا دو۔
{لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ:آپ اپنی نگاہ نہ اٹھائیں ۔} اس آیت کا  معنی یہ ہے کہ اے انبیاء کے سردار! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کو ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن کے سامنے دنیا کی نعمتیں حقیر ہیں، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دنیا کے مال و متاع سے مستغنی رہیں جو یہود یوں اور عیسائیوں وغیرہ مختلف قسم کے کافروں کو دیا گیا۔ (2)
	 علامہ محمد بن یوسف اندلسی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’ دنیا کے مال ومتاع کی طرف نظر کرنے کی ممانعت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نظر کفار کے مال و دولت کی طرف تھی( تو اس سے منع کیا گیا بلکہ آپ ہمیشہ سے مالِ کفار سے مُجتنَب تھے تو اسی طرزِ عمل پر ثابت قدم رہنے کا فرمایا گیا ہے) اور اس آیت میں خطاب اگرچہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے لیکن دنیا کے مال و متاع کی طرف نظر کرنے کی ممانعت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کو ہے کیونکہ جسے قرآن کا علم دیا گیا تو ا س کی نظر دنیا کی رنگینیوں کی طرف نہیں بلکہ قرآن میں غورو فکر کرنے، اس کے معانی سمجھنے اور اس میں دئیے گئے احکامات کی تعمیل کرنے کی طرف ہونی چاہئے۔ (3) 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۷،۴/۴۸۸۔
2…مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۵۸۷، ملخصاً۔
3…البحر المحیط، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۸، ۵/۴۵۲۔