’’وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔
اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جس مومن کو دنیا میں کوئی نیکی دی جاتی ہے اللّٰہ تعالیٰ اس پر ظلم نہیں کرے گا، اسے آخرت میں بھی جزا دی جائے گی اور رہا کافر تو اس نے دنیا میں جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کیلئے نیکیاں کی ہیں ان کا اَجر اسے دنیا میں دے دیاجائے گا اور جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہو گی جس کی اسے جزا دی جائے۔ (2)
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضَ بِالْحقِّ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذْہِبْکُمْ وَیَاۡتِ بِخَلْقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۙ۱۹﴾ وَّ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیۡزٍ ﴿۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے آسمان و زمین حق کے ساتھ بنائے اگر چاہے تو تمہیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے ۔ اور یہ اللّٰہ پر کچھ دشوار نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے۔وہ اگر چاہے تو اے لوگو! تمہیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔اور یہ اللّٰہ پر کچھ دشوار نہیں۔
{اَلَمْ تَرَ:کیا تو نے نہ دیکھا ۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو باطل اور بیکار پیدا نہیں فرمایا بلکہ ان کی پیدائش میں بڑی حکمتیں ہیں۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فرقان:۲۳۔
2…مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنّۃ والنار، باب جزاء المؤمن بحسناتہ فی الدنیا والآخرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۵۰۸، الحدیث: ۵۶(۲۸۰۸)۔
3…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳/۷۹۔