چیز تباہ کرے گی؟ میں نے کہا: نہیں۔ ارشاد فرمایا کہ ’’اسلام کو عالِم کی لغزش ،منافق کا قرآن میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی۔ (1)
حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف قوم کے ان پیشواؤں اور سربراہوں سے ہے جو گمراہ کرنے والے ہیں۔ (2)
علامہ عبد الرؤف مناوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نقل کرتے ہیں کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی امت کی اصلاح پر بہت حریص اور امت کی مستقل بھلائی کی رغبت رکھتے تھے اس لئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی امت پر قوم کے گمراہ کن سرداروں کی وجہ سے فکرمند رہتے تھے ۔ قوم کے پیشواؤں اور سربراہوں کی گمراہی نظام کو خراب کر دیتی ہے کیونکہ یہ لوگ قوم کے قائدین ہوتے ہیں اور جب یہ گمراہ ہوں گے تو قوم بھی گمراہی میں مبتلا ہو گی، اسی طرح جب علماء میں بھی گمراہیاں ہوں گی تو عوام کا ایک بہت بڑا حصہ گمراہی کا شکار ہو جائے گا۔ (3)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں ’’ائمۂ دین فرماتے ہیں ’’اے گروہِ علماء ! اگرتم مستحبات چھوڑ کر مباحات کی طرف جھکو گے تو عوام مکروہات پرگریں گے، اگرتم مکروہ کروگے تو عوام حرام میں پڑیں گے، اگرتم حرام کے مرتکب ہوگے توعوام کفرمیں مبتلا ہوں گے۔ یہ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں’’بھائیو!لِلّٰہاپنے اوپر رحم کرو، اپنے اوپر رحم نہیں کرنا چاہتے تو اُمتِ مصطفیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پررحم کرو۔ چرواہے کہلاتے ہو، بھیڑئیے نہ بنو۔ (4)
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ ؕ فَیُضِلُّ اللہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَیَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے پھراللّٰہ گمراہ کرتا ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن دارمی، باب فی کراہیۃ اخذ الرأی، ۱/۸۲، الحدیث: ۲۱۴۔
2…جامع صغیر، حرف الہمزۃ، ص۱۳۳، الحدیث: ۲۱۹۰۔
3…فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۲/۵۳۱، تحت الحدیث: ۲۱۹۰۔
4…فتاویٰ رضویہ، ۲۴/۱۳۲-۱۳۳، ملخصاً۔